چیز رکھتے ہی دھم سے گرتی ہے

Lucky farooqi Hasrat (b. 1990)

چیز رکھتے ہی دھم سے گرتی ہے

عشق کی میز آڑی ترچھی ہے

میرے نزدیک ماں کی ڈانٹ ڈپٹ

گرم روٹی پہ گھی کے جیسی ہے

جس کو پلکوں پہ ہونا چاہیے تھا

پھونکنی اور توے میں الجھی ہے

موت دھوبی ہے اور امید حیات

میلے کپڑوں کی ایک گٹھری ہے

کھیل جاری ہے سرد راتوں کا

میں ہوں جلوے ہیں اور انگیٹھی ہے

ہاتھ بیٹی کا کس کو سونپے ماں

کئی مٹکے ہیں اک گھڑونچی ہے

چکھ کے دونوں کو یہ ہوا معلوم

ہونٹ میٹھے ہیں چائے پھیکی ہے

پس پردہ ہیں لڑکیاں ساری

ایک کاپی بنا کور کی ہے