مرکز نور پہ کاجل کا اندھیرا کر لے

Lucky farooqi Hasrat (b. 1990)

مرکز نور پہ کاجل کا اندھیرا کر لے

اپنی پلکوں کو ذرا اور گھنیرا کر لے

یہ زمیں چاند کی رعنائی سے ناواقف ہے

دل کے آنگن میں کبھی پاؤں کا پھیرا کر لے

ہم الگ طرح کی رکھتے ہیں توقع تجھ سے

اپنی زلفوں کو بکھیر اور سویرا کر لے

میں تری باہیں جھٹک کر نہ چلا جاؤں کہیں

اور مضبوط اس آغوش کا گھیرا کر لے

میرے سینے میں کوئی شمع ہوس روشن ہے

اس اجالے کے توسل سے اندھیرا کر لے

موم کی ان چھوئی چڑیا کو یہی خوف ہے بس

برف کے پیڑ پہ سورج نہ بسیرا کر لے