دعائے خیر کی پھر کیا کمی ہے

Lucky farooqi Hasrat (b. 1990)

دعائے خیر کی پھر کیا کمی ہے

دعا گو جب حسین ابن علی ہے

جسے کہتی ہے یہ دنیا قناعت

وہ ہم فاقہ کشوں کی دستری ہے

ہے ٹھنڈی راکھ کا چولہا رعایا

حکومت کاٹھ کی اک دیگچی ہے

ہے کچھ میری طبیعت بھی شگفتہ

وہ لڑکی بھی ذرا سی چلبلی ہے

ہیں رقصاں ٹوکری کو دیکھ لہریں

یہ ٹھاکر جی کی پہلی آرتی ہے

کئی نیتاؤں سے چکر ہے اس کا

صحافت بد چلن عورت ہے جی ہے

مرا پردیس جانا طے ہے یارو

غریبی دور نو کی کیکئی ہے

نہ ان ہونٹوں میں رس ہے پہلے جیسا

نہ باکھر خانیوں میں چاشنی ہے

مری آنکھوں کے کان اکتا گئے ہیں

تری تصویر کتنا بولتی ہے