لہو کا رقص تھا سانسوں کا ارتعاشا تھا
Lucky farooqi Hasrat (b. 1990)لہو کا رقص تھا سانسوں کا ارتعاشا تھا
مرے بدن میں کوئی اور بے تحاشہ تھا
حیا کے چھلکے اتارے تو صبح ہونے تک
ہر ایک انگ کسی روشنی کا قاشا تھا
ہیں دفن حال کی مٹی میں درد ماضی کے
یہ زندہ شہر کبھی مفلسی کا لاشہ تھا
اسے بھی مشق کے مرہم نے ٹھیک کر ڈالا
مرے خیال کے چہرے پہ جو خراشا تھا
طناب جسم پہ ہونٹوں کا رقص کن کرتب
گذشتہ شب کا تماشا بھی کیا تماشا تھا