اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرح

Vala Jamal Al Aseeli

اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرح

میں بھی ہوں عشق میں مسحور زلیخا کی طرح

میرا آئین ہے ایثار کسی میرا کا

اور بے باکی ہے دستور زلیخا کی طرح

دکھ تو اس کا ہے مگر ہوں میں برابر کی شریک

دل تو میرا بھی ہوا چور زلیخا کی طرح

عشق سچا ہو مقدس ہو تو مرتا کب ہے

عشق میں یوں ہوں میں مشہور زلیخا کی طرح

اس قدر اشک بہائے ہیں تری فرقت میں

ہو گئیں آنکھیں بھی بے نور زلیخا کی طرح

عشق کا کیا بھلا حاصل ہے سوائے اس کے

ہوش سے ہو گئی میں دور زلیخا کی طرح

بس وہی شخص ولاؔ اس کی محبت میں مرے

جس کو رسوائی ہو منظور زلیخا کی طرح