نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے

Vala Jamal Al Aseeli

نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے

کہ ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہے

خدا ہی جانے میں آئی ہوں کیسے گلشن میں

یہاں تو خار بھی حسن و جمال رکھتا ہے

ہر ایک زخم پہ میرے نمک چھڑکتا ہے

وہ دوست میرا بہت ہی خیال رکھتا ہے

تمام رشتوں کو توڑا نہیں ابھی اس نے

خفا خفا ہے مگر بول چال رکھتا ہے

لبوں پہ اس کے شکایت نہیں ہے کوئی ولاؔ

مگر نظر میں ہزاروں سوال رکھتا ہے