دھواں سا کوئی ہواؤں میں سرسرائے گا کچھ

Nadeem Goyai

دھواں سا کوئی ہواؤں میں سرسرائے گا کچھ

پھر اس کے بعد تجھے بھی نظر نہ آئے گا کچھ

میں جانتا ہوں کہاں تک ہے دسترس اس کی

جو بیت جائے وہی سب پہ آزمائے گا کچھ

فصیل سنگ کی محدودیت ہلاکت ہے

اڑا دے خود کو ہوا میں تو سنسنائے گا کچھ

تو پانیوں میں ذرا ایسے ہاتھ پاؤں نہ مار

نکلنا دور رہا اور ڈوب جائے گا کچھ