نہ جانے کون سی ساعت میں ہو گیا غائب

Nadeem Goyai

نہ جانے کون سی ساعت میں ہو گیا غائب

جو اندرون ٹٹولا تو لاپتہ غائب

کدھر کو جاؤں ہواؤں کی قید سے چھٹ کر

زمین تنگ ہوئی اور راستا غائب

وہ ایک ابر کی مانند میرے اوپر سے

ہوا کے ساتھ اڑا اور ہو گیا غائب

کسی بھی طور برابر نہ ہو سکی تقسیم

جو ایک سامنے آیا تو دوسرا غائب