تجھے پانے کی خواہش پھر جگی ہے

Gaurav Trivedi (b. 1990)

تجھے پانے کی خواہش پھر جگی ہے

مگر افسوس یہ تو خودکشی ہے

مجھے آواز دے میں جی اٹھوں گا

تری آواز اداسی توڑتی ہے

تری تصویر کو دیکھوں تو مجھ کو

ابھی تک پیار سے ہی دیکھتی ہے

اگر تو خوش نہیں ہے تو چلی جا

مجھے تو خیر بس اپنی پڑی ہے

مرا کیا ہے مرا افسوس بھی کیا

ترے آگے تو پوری زندگی ہے