جسم تھکتا رہا مگر نکلے
Gaurav Trivedi (b. 1990)جسم تھکتا رہا مگر نکلے
اک سفر سے کئی سفر نکلے
عشق نکلا خطوں خطوں پہلے
اور پھر ان خطوں کے پر نکلے
بس اسی کی رہی کمی چھت پر
چاند تارے تو رات بھر نکلے
ایسے نکلا ہے وہ کہانی سے
جسم سے روح جس قدر نکلے
موت کی ہی کسر بچی ہے اب
ایک غم اور یہ کسر نکلے