توڑ دی سارے جہاں سے دوستی اچھا کیا
Gaurav Trivedi (b. 1990)توڑ دی سارے جہاں سے دوستی اچھا کیا
اور خود سے بھی کوئی خواہش نہ کی اچھا کیا
اک قسم جو روک سکتی تھی ہماری رخصتی
خیر تم نے وہ قسم ہم کو نہ دی اچھا کیا
لوٹتا تو دیکھتا کچھ اور پیروں کے نشان
پر نہ لوٹا میں کبھی اس کی گلی اچھا کیا
لوگوں کا برتاؤ تو تھا ہی بہت بے کار پر
خود سے میں نے کون سا خود بھی کبھی اچھا کیا
اب تو جھوٹے منہ بھی تم کہتے نہیں ہو پیار ہے
تم نے آخر چھوڑ ہی دی دل لگی اچھا کیا