اس کو جن آنکھوں سے دنیا دکھتی ہے
Gaurav Trivedi (b. 1990)اس کو جن آنکھوں سے دنیا دکھتی ہے
میں نے ان آنکھوں میں دنیا دیکھی ہے
جس کو میرا ہاتھ پکڑنا چاہیئے تھا
وہ میری اک غلطی پکڑے بیٹھی ہے
آنکھ سے نکلی تب مجھ کو معلوم ہوا
خواب کی ارتھی پانی جیسی ہوتی ہے
سن نوے میں وہ دنیا میں آئی تھی
سن نوے سے شام یہ بہکی بہکی ہے
وہ کہتی تھی مر جائے گی میرے بن
کوئی تو بتلاؤ اب وہ کیسی ہے