اور پھر ہم نے بھی اپنے دل کا سودا کر لیا
Gaurav Trivedi (b. 1990)اور پھر ہم نے بھی اپنے دل کا سودا کر لیا
بعد تیرے ہم نے اپنا دل کھلونا کر لیا
اف یہ تیرے ہاتھ پیلے اف سندوری مانگ یہ
اک ذرا ناراضگی میں تو نے یہ کیا کر لیا
تھا نہیں سورج مگر اتنا اندھیرا بھی نہ تھا
ہم نے خود بتی بجھائی خود اندھیرا کر لیا
کوئی چارہ ہی نہیں تھا پاس میرے اس لئے
تیری جیسی عادتیں کیں خود کو تجھ سا کر لیا
اب کہاں مجھ سا ملے گا تم کو دنیا میں کوئی
مجھ سے دھوکا کر کے تم نے خود سے دھوکا کر لیا