میں تھک چکا ہوں زمانہ کے چونچلوں سے اب
Gaurav Trivedi (b. 1990)میں تھک چکا ہوں زمانہ کے چونچلوں سے اب
سو چن رہا ہوں کچھ اک دوست دشمنوں سے اب
چلے گئے ہیں جو واپس نہیں ملا کرتے
ملوں گا خیر تمہیں میں بھی مشکلوں سے اب
نہ جانے کاٹ رہا ہوں میں کس لئے راتیں
ملے گا کیا ہی مجھے جانے رتجگوں سے اب
مٹا رہا ہوں اب اپنا میں اصل معنی خود
تلاش کرنا مجھے اپنے زاویوں سے اب
تمہارے دل میں بھی میری جگہ نہیں کوئی
مجھے بھی سیکھنا ہے جینا بے گھروں سے اب