جی بھی چکے ہیں خواب جو اب دیکھتے ہیں ہم
Gaurav Trivedi (b. 1990)جی بھی چکے ہیں خواب جو اب دیکھتے ہیں ہم
کچھ اک برس تو ساتھ بھی اس کے رہے ہیں ہم
وہ غیر کی ہوئی یہ چلو مان بھی لیا
آتا نہیں یقیں کہ کسی اور کے ہیں ہم
ہم کو نہ دیکھ آج تجھے یہ خبر نہیں
کل تک تھے کوئی آج کوئی دوسرے ہیں ہم
سوچا کریں ہیں لوٹ چلیں اس کے شہر کو
ڈھونڈھا کریں کہ کون جگہ کھو گئے ہیں ہم
اچھے ہیں پوچھنے پہ یہی بولتے ہیں ہم