میں نے چاہا ہی نہیں مجھ کو صفائی دو تم
Gaurav Trivedi (b. 1990)میں نے چاہا ہی نہیں مجھ کو صفائی دو تم
اپنی یادوں سے مگر مجھ کو رہائی دو تم
میری بس اتنی سی خواہش کو توجہ دے دو
روز جگتے ہی مجھے صبح دکھائی دو تم
اک بھرم رکھ لو یہی کہہ دو ملیں گے پھر سے
آس ہی باقی رہے ایسے وداعی دو تم
اب مرا من ہی نہیں اور غزل کہنے کا
تم ہو گزرا ہوا کل اب نہ سنائی دو تم
پیار کے روگ کی بس پیار دوا ہے تو پھر
لوٹ کر آؤ مجھے میری دوائی دو تم