یہ زندگی خیال ہے اور ہم خیال تو

Gaurav Trivedi (b. 1990)

یہ زندگی خیال ہے اور ہم خیال تو

اپنا لے مجھ کو یوں نہ مری جاں نکال تو

بریک اپ کا غم تو تھا ہی مجھے اب یہ غم بھی ہے

بریک اپ کے بعد لگنے لگی ہے وبال تو

جو بھی کہوں گا جھوٹ کہوں گا میں ہوش میں

پینے کے بعد پوچھ مرا حال چال تو

کیوں دل میں چبھ رہا ہے مرا پیار ہے اگر

تو پیار ہے تو پیر کا کانٹا نکال تو

اک تو ہے پیار وہ بھی مجھے وہ بھی تجھ سے ہے

میں بھی کمال پیار بھی اس پر کمال تو