یاد میں تیری ایسا کرنے لگتے ہیں

Gaurav Trivedi (b. 1990)

یاد میں تیری ایسا کرنے لگتے ہیں

ہم اکثر خود سے ہی لڑنے لگتے ہیں

یادیں زندہ ہو جاتی ہیں شام ڈھلے

پھر ہم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہیں

کچھ یادیں اتنی دھندھلی ہو جاتی ہیں

ہم ان کو اک خواب سمجھنے لگتے ہیں

وہ قصہ میں جب جب بھی دہراتا ہوں

نظروں سے کچھ لوگ اترنے لگتے ہیں

بوڑھے ہو کر مکھیا اپنے گھر میں ہی

اپنی اولادوں سے ڈرنے لگتے ہیں