جنگل پہاڑ کھیت بھی بھاتے نہیں مجھے

Gaurav Trivedi (b. 1990)

جنگل پہاڑ کھیت بھی بھاتے نہیں مجھے

اپنی نظر سے تم جو دکھاتے نہیں مجھے

میں رسم رہ گیا ہوں فقط اور کچھ نہیں

اس پر بھی میرے لوگ نبھاتے نہیں مجھے

دو دن ملے بغیر بھی جس سے سکوں نہ تھا

ہائے اب اس کے خواب تک آتے نہیں مجھے

یہ زندگی ہے خواب برا خواب زندگی

کیوں نیند سے خدایا جگاتے نہیں مجھے

غم ہیں مجھے تو خیر مجھے یہ سکون ہے

یہ غم اکیلے چھوڑ کے جاتے نہیں مجھے