دوچار دوستوں کی نظر لگ گئی مجھے
Gaurav Trivedi (b. 1990)دوچار دوستوں کی نظر لگ گئی مجھے
ورنہ کسی کے ساتھ کی عادت نہ تھی مجھے
پھر آپ کی گلی سے گزرتے ہوئے لگا
پیچھے سے جیسے آپ نے آواز دی مجھے
ہنستا ہوں اس لئے کہ اسی میں سکون ہے
رو کر بھی کون سی خوشی واپس ملی مجھے
میں کس طرح سے تیرے بنا ہو گیا تباہ
میں سوچتا ہوں کاش کہ تو دیکھتی مجھے
اپنا سکون اور ہے دل کا سکون اور
دل کے سکون سے ہی مصیبت ملی مجھے