آپ کو یہ بھلے آسان سفر لگتا ہے
Gaurav Trivedi (b. 1990)آپ کو یہ بھلے آسان سفر لگتا ہے
شعر کہنے میں مگر خون جگر لگتا ہے
چاہتے تھے جسے بھر لیں گے کبھی بانہوں میں
اتنا نازک ہے وہ چھونے میں بھی ڈر لگتا ہے
اتنی یادیں ہیں فضاؤں میں تری کیا بولیں
لکھنؤ آج بھی تیرا ہی نگر لگتا ہے
جس کسی سے بھی ملوں اب وہ لگے ہے تم سا
تم نہ مانو گے مرے یار مگر لگتا ہے
تم سے بچھڑے تھے کبھی تب سے پہر یہ ہم کو
آج تک تم سے بچھڑنے کا پہر لگتا ہے