کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے
Saba Alam Shahکبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے
کبھی خدا سے کبھی آدمی سے شکوہ ہے
خود اپنی ذات سے جو آشنا نہیں اس کو
بس ایک اپنے سوا ہر کسی سے شکوہ ہے
مجازی عشق کسی کو سکوں نہیں دیتا
جسے بھی دیکھو اسے دل لگی سے شکوہ ہے
وفا اس عہد جفا میں ہے اک فریب نظر
بساط وقت کی جادوگری سے شکوہ ہے
کرے جو کھل کے عداوت نہیں ہے اس سے گلہ
منافقت سے بھری دوستی سے شکوہ ہے
سکون دل تو ملا ہے نشاط زیست نہیں
قلندروں کا یہی آگہی سے شکوہ ہے
کوئی عمل نہیں ایسا خدا کو پیش کروں
صباؔ مجھے مری اس بندگی سے شکوہ ہے