ہوائے شوخ کی آخر فسوں کاری یہ کیسی ہے
Vali Madniہوائے شوخ کی آخر فسوں کاری یہ کیسی ہے
اذیت دے کے ٹل جاتی ہے دل داری یہ کیسی ہے
برستے ہیں مسلسل اپنے سر آفات کے پتھر
بتا اے دل بلاؤں کی خریداری یہ کیسی ہے
اگی ہیں دھوپ کی فصلیں کہیں سایہ نہیں ملتا
شجرکاری کا دعویٰ تھا شجرکاری یہ کیسی ہے
کھڑی ہے اپنے دامن کو پسارے غیر کے آگے
مرے مولا پریشاں آج خود داری یہ کیسی ہے
کہیں خوشیوں کی کلیاں ہیں کہیں اشکوں کے بوٹے ہیں
حیات و موت کے مابین گل کاری یہ کیسی ہے
دریچوں سے شعاعیں جھانکتی ہیں مسکراتی ہیں
خبر تو لو پس دیوار بیداری یہ کیسی ہے
لرزتی ہے فقط اک لفظ کی ہلکی سی ٹھوکر سے
ولیؔ دل کے مکاں کی چار دیواری یہ کیسی ہے