محبت میں کوئی عاشق اگر فن کار بن جائے

Dard Faiz Khan (b. 2003)

محبت میں کوئی عاشق اگر فن کار بن جائے

تو پھر یہ عین ممکن ہے کہ دل بازار بن جائے

تری راہیں ترا کوچہ اگر گھر بار بن جائے

تری حسرت میں جو مر جائے وہ معمار بن جائے

وہ ساحر جو بنا دیتا ہے پتھر سب دوانوں کو

ہے ممکن اس کی لاٹھی بھی کبھی تلوار بن جائے

ذرا سی دیر بس آ جا مرے دیدار کی خاطر

کہیں ایسا نہ ہو یہ جسم بھی مردار بن جائے

مجھے کچھ بھی نہیں کہنا فقط خاموش رہنا ہے

نہ جانے کب مرے ہاتھوں کوئی شہکار بن جائے

فنا ہو جائیں گے اک روز دنیا کے سبھی ظالم

ہمارا اک مجاہد سا اگر کردار بن جائے

خدارا فیضؔ کو اتنی نہیں دولت عطا کرنا

کہیں ایسا نہ ہو بھائی مرا غدار بن جائے