آپ جو درد دل کی دوا دے گئے
Tabish Dharam Kotiآپ جو درد دل کی دوا دے گئے
مجھ کو جینے کا اک مدعا دے گئے
میں نے پوچھا مرا آسرا کون ہے
لکھ کے کاغذ پہ لفظ خدا دے گئے
میں جیوں تا قیامت قیامت ہے یہ
وہ دعا میں نہاں بد دعا دے گئے
پارہ پارہ دکھوں اس لئے وہ مجھے
ایک ٹوٹا ہوا آئنہ دے گئے
ہجر میں میں جیوں ہجر سے میں مروں
میرے منصف مرا فیصلہ دے گئے