دل میں کوئی ارماں کوئی حسرت تو نہیں ہے
Tabish Dharam Kotiدل میں کوئی ارماں کوئی حسرت تو نہیں ہے
اب صبر سے بڑھ کر کوئی دولت تو نہیں ہے
دیکھوں تو گماں خلد کا ہوتا ہے کیوں اکثر
قدموں کے تلے ماں ترے جنت تو نہیں ہے
ڈرتا ہوں کہیں تم بھی مجھے چھوڑ نہ جاؤ
سہنے کی غم ہجر کی عادت تو نہیں ہے
غیروں سے مرے بارے میں تفتیش سی کرنا
اب تو ہی بتا کیا یہ محبت تو نہیں ہے