ایسی کوئی خطا نہیں کرتے
Tabish Dharam Kotiایسی کوئی خطا نہیں کرتے
ہم کسی سے دغا نہیں کرتے
جاں کی پرواہ گر ہمیں ہوتی
تم سے عہد وفا نہیں کرتے
جاں بھی دے دیں مگر کہو تو ذرا
ہم وفا کش جفا نہیں کرتے
بات کرتے وفاؤں کی ہیں مگر
لوگ ہی حق ادا نہیں کرتے
کرکے احساں چھپا لیا کیجے
جو کیا ہے کہا نہیں کرتے
ہے حلیمی بجا مگر تابشؔ
اس قدر بھی جھکا نہیں کرتے