درد دل درد جگر اچھا لگا

Tabish Dharam Koti

درد دل درد جگر اچھا لگا

لمس دست چارہ گر اچھا لگا

درد اٹھا جھوم کر اچھا لگا

تیرا شانہ میرا سر اچھا لگا

جس کے سائے میں ملا کرتے تھے ہم

باغ میں تنہا شجر اچھا لگا

تیری خلوت تیری محفل خوب ہے

تیرا کوچہ تیرا گھر اچھا لگا

مسکرا کے دل لیا پھر کھو گئے

آپ کا یہ بھی ہنر اچھا لگا

ڈر کے میرے سینے سے لگنا ترا

موسم برق و شرر اچھا لگا

تلخیوں سے انسیت ہونے لگی

ساقیا مے کا اثر اچھا لگا

میں تھا وہ تھے اور تھی رعنائیاں

غالباً تابشؔ سفر اچھا لگا