لگا ہے روگ جب سے عاشقی کا

Tabish Dharam Koti

لگا ہے روگ جب سے عاشقی کا

مزہ آنے لگا ہے زندگی کا

اسے ہم دوستی کیسے کہیں گے

بھروسہ جب نہیں ہے دوستی کا

خودی سے بے نیاز ہو جائیے گا

عبادت نام ہے دیوانگی کا

ہمارے دور کی ہے مہربانی

ہے دشمن آدمی ہی آدمی کا

سر محفل قیافے لگ رہے ہیں

سبب کیا ہے تمہاری خامشی کا

ملے گر ساتھ ہم کو تیرا تابشؔ

مزہ کچھ ہے الگ ہی مے کشی کا