لگا ہے روگ جب سے عاشقی کا
Tabish Dharam Kotiلگا ہے روگ جب سے عاشقی کا
مزہ آنے لگا ہے زندگی کا
اسے ہم دوستی کیسے کہیں گے
بھروسہ جب نہیں ہے دوستی کا
خودی سے بے نیاز ہو جائیے گا
عبادت نام ہے دیوانگی کا
ہمارے دور کی ہے مہربانی
ہے دشمن آدمی ہی آدمی کا
سر محفل قیافے لگ رہے ہیں
سبب کیا ہے تمہاری خامشی کا
ملے گر ساتھ ہم کو تیرا تابشؔ
مزہ کچھ ہے الگ ہی مے کشی کا