بتاؤ در دریچہ بام کیا ہے

Habib.I.Kinkhabwala

بتاؤ در دریچہ بام کیا ہے

تمہارے نام کا ہم نام کیا ہے

تمہاری زلف کے سائے میں دیکھا

ہماری صبح کیا ہے شام کیا ہے

بھلے ہے موت کا اک دن معین

ہمارے سر مگر الزام کیا ہے

محبت کا اگر آغاز غم ہے

محبت کا بتا انجام کیا ہے

کسی اندھے کی لاٹھی نے دکھایا

ستاروں سے فلک کو کام کیا ہے