لبوں پہ لالہ و گل کے وہ اب ہنسی نہ رہی

Paikan Chandpuri

لبوں پہ لالہ و گل کے وہ اب ہنسی نہ رہی

نسیم صبح کے جھونکوں میں تازگی نہ رہی

یہ آج کیسی پلائی ہے اے مرے ساقی

خودی کا دور گیا اور بے خودی نہ رہی

کیا اگرچہ بہت پائمال گردوں نے

ترے ستم کی بھی ظالم مگر کمی نہ رہی

کسی نے روئے حسیں سے نقاب کیا الٹی

فلک پہ چاند ستاروں میں روشنی نہ رہی

ضرور آئیں گے وہ اب یقین ہے مجھ کو

دل حزیں میں وہ پہلی سی بیکلی نہ رہی

نہ مجھ سے پوچھ تو روداد زندگی پیکاںؔ

جہان زیست میں کوئی بھی دل کشی نہ رہی