ہجوم غم کو ہم تو زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

Paikan Chandpuri

ہجوم غم کو ہم تو زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

یہ الفاظ دگر طوفان کو ساحل سمجھتے ہیں

رہ الفت میں ایسے بھی مقام آ جاتے ہیں اکثر

جہاں آہ و فغاں کو ہم سکون دل سمجھتے ہیں

اسیران قفس کی ہمت مردانہ تو دیکھو

قفس کی قید کو آزادئ کامل سمجھتے ہیں

وہ کیا پہنچیں گے منزل پر وہ کیا پائیں گے منزل کو

جو رہزن کو بھی اپنا رہبر کامل سمجھتے ہیں

انہیں پروائے جور چرخ گردوں ہو نہیں سکتی

جو رنج و غم کو بھی وجہ سکون دل سمجھتے ہیں

کہاں میں اور کہاں شعر و سخن کی انجمن پیکاںؔ

بہ فیض طبع موزوں ہے جو اہل دل سمجھتے ہیں