باغباں بد گماں نہ ہو جائے
Paikan Chandpuriباغباں بد گماں نہ ہو جائے
دشمن آشیاں نہ ہو جائے
گردشیں بڑھ رہی ہیں قسمت سے
یہ زمیں آسماں نہ ہو جائے
مسکرا تو رہے ہیں آپ مگر
نذر آتش جہاں نہ ہو جائے
دیکھ لیں خود وہ تاب نظارہ
شرم جو درمیاں نہ ہو جائے
چٹکیوں سے تری یہ پردۂ دل
جان من دھجیاں نہ ہو جائے
بجلیوں کو ہے ضد کہیں جل کر
خاک یہ آشیاں نہ ہو جائے
تیری روداد عشق بھی پیکاںؔ
قیس کی داستاں نہ ہو جائے