ہجر کے کچھ حالات تو سن لو
Paikan Chandpuriہجر کے کچھ حالات تو سن لو
روداد آفات تو سن لو
آئے ہو تو رک کر جانا
بیٹھ بھی جاؤ بات تو سن لو
کیسے گزاری کیسے گزری
ہجر کی ہم نے رات تو سن لو
توڑ بھی دو اب یہ خاموشی
مان بھی جاؤ بات تو سن لو
دونوں جہاں سے ہوں بیگانہ
ان کے احسانات تو سن لو
نازش گلشن ناز بہاراں
کم سے کم اک بات تو سن لو
جلوہ نما وہ آج ہیں پیکاںؔ
کیسی ہے یہ رات تو سن لو