چین دل کو نہ آئے گا کب تک
Paikan Chandpuriچین دل کو نہ آئے گا کب تک
وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک
اے ستم گر ترے ستم آخر
کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک
ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو
آسماں تو ستائے گا کب تک
وہ رہے گا خفا اگر یوں ہی
کوئی آخر منائے گا کب تک
ہجر کا میرے ہم نشیں کوئی
ان کو قصہ سنائے گا کب تک
چھا چکی ہیں گھٹائیں اب ہر سو
ساقیا مے پلائے گا کب تک
شعلۂ عشق کیا خبر پیکاںؔ
میرے دل کو جلائے گا کب تک