نقاب رخ سے اٹھاؤ بہت اداس ہے رات
Paikan Chandpuriنقاب رخ سے اٹھاؤ بہت اداس ہے رات
جمال اپنا دکھاؤ بہت اداس ہے رات
تصورات میں آؤ بہت اداس ہے رات
طرب کے نغمے سناؤ بہت اداس ہے رات
بہار آئی ہے اٹھو ذرا چمن والو
کلی کو جام بناؤ بہت اداس ہے رات
عروس نو کی گھنیری سیاہ زلفوں میں
حسیں ستارے سجاؤ بہت اداس ہے رات
ابھی تو رات ہے باقی ابھی سے فکر سحر
ابھی نہ جاؤ نہ جاؤ بہت اداس ہے رات
خوشا نصیب کہ وہ کہہ رہے ہیں اے پیکاںؔ
کوئی غزل تو سناؤ بہت اداس ہے رات