تھم ذرا وقت اجل دیدار جاں ہونے لگا

Ummeed KHwaja

تھم ذرا وقت اجل دیدار جاں ہونے لگا

آخری ہچکی پہ کوئی مہرباں ہونے لگا

کس ستم گر نے اڑا لی یاد ماضی کی بیاض

ہر گلی ہر موڑ پر قصہ بیاں ہونے لگا

جانے کس گل نے چمن کی حرمتیں پامال کیں

موسم فصل بہاراں بھی خزاں ہونے لگا

دفن کر کے قبر میں جب جا چکے احباب دوست

جو کبھی سوچا نہ تھا وہ امتحاں ہونے لگا

دست و پا شل ہو گئے ہیں قوتیں زائل ہوئیں

زندگانی کا سفر آگے رواں ہونے لگا

خواہشوں کی چاہ میں خسران کے سودے کئے

منفعت سمجھا جسے آخر زیاں ہونے لگا

کوئی وعدہ آج تک ایفا نہیں تم نے کیا

بات سچی تھی مگر وہ بد گماں ہونے لگا

پاؤں کی آہٹ نے مجھ کو گور میں چونکا دیا

ہچکیوں کا ساز دل کا ترجماں ہونے لگا

کیسی خوش فہمی تمہیں کس بات کا غرہ امیدؔ

آ گئے ہیں اقربا وقت اذاں ہونے لگا