روٹھنا چاہو تو اب ہرگز منانے کا نہیں
Ummeed KHwajaروٹھنا چاہو تو اب ہرگز منانے کا نہیں
دل کو مائل کر لیا آنسو بہانے کا نہیں
راستے دھندلا گئے ہیں روشنی والو سنو
وعدہ جلنے کا کیا تھا ٹمٹمانے کا نہیں
کشتیاں منجدھار میں ہیں ناخدا ناراض ہیں
آسمانوں سے کہو بجلی گرانے کا نہیں
کب ڈھلے گی شام غم کب ختم ہوگا ظلم و جبر
زندگی انساں کی ہے عنواں فسانے کا نہیں
لو چلے جاتے ہیں خالی ہاتھ دنیا سے امیدؔ
یاد کر لینا عزیزو بھول جانے کا نہیں