نعیم آج میں اس شکل کو جواں دیکھا
Naeem Dehlaviنعیم آج میں اس شکل کو جواں دیکھا
خدا کو صورت انسان میں عیاں دیکھا
تو ہی ہے کعبہ میں اور تو ہی بت کدے میں ہے
غرض کہ تجھ کو بھی ہم نے کہاں کہاں دیکھا
کرو گے جور کسی اور پر تو جانو گے
ابھی تو ظلم کا تم نے مزا کہاں دیکھا
ہم اپنی دل کی تلاوت کو یاد کر روئے
کسی کے حال پہ گر تجھ کو مہرباں دیکھا
گرے ہم آن کے تب تیرے آستانے پر
جہاں میں کوئی نہ جب تجھ سا قدرداں دیکھا
اگرچہ یار تو تیرے ہزار ہوویں گے
کوئی بھی ہم سا بھلا یار جاں فشاں دیکھا
یقیں نعیمؔ کے احوال کا نہ تھا تجھ کو
گیا نہ جی ہی سے آخر اے بد گماں دیکھا