گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں
Parveen Shaghaf (b. 1980)گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں
اپنے گھر میں میں مگر بے کار سا سامان ہوں
شیشہ گر تو نے نفاست سے تراشا ہے مجھے
کیا خبر تجھ کو کہ اب پتھر کا اک میدان ہوں
کوئی پڑھتا ہے مجھے شام و سحر یوں با وضو
اور کسی کے واسطے سادہ سا اک فرمان ہوں
چل رہی ہوں ہولے ہولے چاند کی مانند میں
یہ بھی سچ ہے کہکشاں کا ایک روشن دان ہوں
ہے پہننی خاک کی نکھری قبا اک دن شغفؔ
آخری دن کا ابھی سے دیکھیے سامان ہوں