اشکوں کے گہر یوں سر مژگاں بھی نہ تولیں

Tabassum Rizvi

اشکوں کے گہر یوں سر مژگاں بھی نہ تولیں

ان آنکھوں سے کہہ دو کہ ابھی راز نہ کھولیں

تسکین دل و جاں کی تو نکلے کوئی صورت

اس نیزۂ مژگاں کی انی دل چبھو لیں

آنکھوں سے کریں کیا تنک آبی کی شکایت

دل ہی کے لہو سے کبھی پلکوں کو بھگو لیں

چاہت تو ہر اک بات سے ظاہر ہے اب ان کی

ہر چند زباں سے نہ کہیں منہ سے نہ بولیں

قسمت میں اگر تم سے بچھڑنا ہی لکھا ہے

اک بار تمہیں اپنے سے لپٹا کے تو رو لیں