کچھ نہ کچھ آیا تو ہوگا اس کے جی میں

Yashvardhan Mishra (b. 2002)

کچھ نہ کچھ آیا تو ہوگا اس کے جی میں

پھر چھپایا ہوگا مجھ کو ڈایری میں

ڈر بہت لگتا تھا پہلے موت سے پر

اب مزہ آتا ہے مجھ کو خودکشی میں

بام پر میں بیٹھ کر یہ سوچتا ہوں

شب نہائی ہوگی اس کی روشنی میں

بات ساری چاند سے کرتا ہوں اس کی

ہوش رہتا ہی نہیں بادہ کشی میں

مجھ کو اب تنہائی کھلتی جا رہی ہے

ہو رہا ہے یہ تری موجودگی میں

ہو گیا پاگل تری خاطر وہ لڑکا

کچھ کمی رکھی نہیں دیوانگی میں

دیکھ کر تم کو مری حالت وہی ہے

چیز دیکھے جیسے بچہ مفلسی میں

اب نہیں ہے پیار تم سے جان میری

کہہ رہا ہوں بات یہ ناراضگی میں