بند گھر کے کمرے کی روشنی نہیں اچھی

Yashvardhan Mishra (b. 2002)

بند گھر کے کمرے کی روشنی نہیں اچھی

اور جان ہجرت کی تیرگی نہیں اچھی

چھوڑ کر یہاں مجھ کو جا رہا ہے تو شاید

بن ترے جو جینی ہے زندگی نہیں اچھی

بولتی ہے یہ ان کو روکنا نہیں جاناں

جھیل جیسی آنکھوں کی خامشی نہیں اچھی

غم سہیں رہیں تنہا عاجزی کریں لیکن

عشق تیرے چہرے پر بے بسی نہیں اچھی

مانتا ہوں اب تم میں تاب غم نہیں ہے پر

جنم دن پہ یشوردھنؔ خودکشی نہیں اچھی