جبکہ وہ جان جہاں بد مست خواب آیا نظر

Qamar Hilali

جبکہ وہ جان جہاں بد مست خواب آیا نظر

زاہد صد سالہ مسجد میں خراب آیا نظر

جلوۂ محبوب حق کیا بے حجاب آیا نظر

ماہتاب آیا نظر یا آفتاب آیا نظر

ہوش میں رہتا نہیں ساقی کی مجلس میں کوئی

خشک زاہد بھی وہاں مست شراب آیا نظر

چاک دامن خاک بر سر خستہ دل تفتہ جگر

تیرا شیدائی زمانہ میں خراب آیا نظر

عاشقوں کو تیرے ہوگی تاب نظارہ کہاں

ہوش اڑ جائیں گے جب تو بے نقاب آیا نظر

عاشقوں کو تیرے ہوگی تاب نظارہ کہاں

ہوش اڑ جائیں گے جب تو بے نقاب آیا نظر

تیرے رخ کو دیکھ کر کھویا نماز فجر کو

سجدہ جائز ہی نہیں جب آفتاب آیا نظر

چل رہا تھا مجلس رنداں میں جب دور شراب

ہائے واں بھی محتسب خانہ خراب آیا نظر

طاق ابرو آپ کا ہے سجدہ گاہ عاشقاں

کیوں نہ ہو دیکھا تو کعبہ کا جواب آیا نظر

سینہ بریاں دل تپاں ہے عشق جاناں میں مرا

چیر کر سینہ جگر دیکھا کباب آیا نظر

جب خیال آیا گناہوں کا تو تیرے خوف سے

کانپ اٹھتا دل مرا روز حساب آیا نظر

جوش رحمت کو ہوا اور دھل گئے عصیاں تمام

جب قمرؔ آگے ترے چشم پر آب آیا نظر