عالم خواب بہر حال سجائے رکھیے

Badnam Nazar (1941–2023)

عالم خواب بہر حال سجائے رکھیے

گردنیں جائیں مگر سر کو بچائے رکھیے

کوئی طوفان سر راہ اٹھائے رکھیے

سلسلہ ہم سے نہ ملنے کا بنائے رکھیے

کوئی موسم ہو بہاروں سے بنائے رکھیے

خشک پتوں پہ کوئی رنگ چڑھائے رکھیے

اس سیہ رات میں اک سبز پری اترے گی

خواب طفلی کو بہر حال جگائے رکھیے

پیاس جسموں کی بجھا کرتی ہے یوں بھی اکثر

ایک تصویر سرہانے میں لگائے رکھیے

وقت جانے کہ خدا پہلے بھی تھا کوئی یہاں

نقش پتھر پہ فرشتوں کے بنائے رکھیے

لفظ کے پاس نہ بھٹکیں یہ ہیں بے حس پتھر

درد احساس کے شیشے کو بچائے رکھیے

تاکہ ویرانی ادھر آئے تو مایوس نہ ہو

اپنے دروازوں کو پھولوں سے سجائے رکھیے

آج کی رات نظرؔ زخم مرے چمکیں گے

آج کی رات چراغوں کو بجھائے رکھیے