دے رہا تھا کہیں سدا کوئی

Yachana Phansal (b. 1985)

دے رہا تھا کہیں سدا کوئی

دور تک پر نہیں دکھا کوئی

سوچ کیسے تری محبت میں

مار کے خود کو بھی جیا کوئی

عشق بھی اس طرح کیا تو نے

جیسے دفتر کا کام تھا کوئی

اس نے آواز دی نہیں آخر

میرے اندر ہی مر گیا کوئی

تھک گئی ہوں میں یاد کر کے اب

بھولنے کا ہنر سکھا کوئی

ساری دنیا میں حیرتیں بھر دے

پھر تماشہ نیا دکھا کوئی

مجھ میں روشن ہوا خدا جب سے

تب سے بجھتا چلا گیا کوئی