میری آنکھوں میں دھنک رنگ سجانے آئے

Yachana Phansal (b. 1985)

میری آنکھوں میں دھنک رنگ سجانے آئے

رات آئی تو ترے خواب سہانے آئے

ہم تو سمجھے تھے تجھے بھول گئے ہیں لیکن

ہم پہ ہنسنے تری یادوں کے خزانے آئے

رات بھر چاند میں دکھتی رہی صورت تیری

پھر ہمیں یاد وہی گزرے زمانہ آئے

اوڑھ کر سرد سیہ رات میں خوشبو تیری

کل ستارے کوئی پیغام سنانے آئے

تھام کر ہاتھ مرا کانپتی رت میں پھر سے

تیرے احساس کوئی آگ لگانے آئے

تو مرا ہو نہ سکے گا کبھی اس دنیا میں

کیوں مرے دل کو ترے خواب لبھانے آئے