پھر وہی غم ہیں وہی طنز زمانہ والے
Yachana Phansal (b. 1985)پھر وہی غم ہیں وہی طنز زمانہ والے
باز کب آتے ہیں یہ دل کو دکھانے والے
میں تیری یاد میں کب سے اداس بیٹھی ہوں
تو کہاں ہے مجھے ہر روز ہنسانے والے
چھوڑنے والے کو درکار ہے اک غلطی کی
اور نبھاتے ہیں سدا ساتھ نبھانے والے
عمر بھر چھاؤں میں اپنی جنہیں سینچا تو نے
ہیں وہی لوگ تجھے آگ لگانے والے
اک ملاقات میں ہی ہم کو سمجھ یہ آیا
لوگ چھوٹے ہیں بہت اونچے گھرانے والے