قافلہ جب رکا ہوا ہوگا
Umar Farhat (b. 1986)قافلہ جب رکا ہوا ہوگا
سارا منظر تھکا ہوا ہوگا
بادلوں پر کہیں بلندی پر
خواب کا گھر بنا ہوا ہوگا
یہ جو ہر سمت خون پھیلا ہے
خواب میں حادثہ ہوا ہوگا
بادشاہی جسے ملی ہوگی
تیرے در پر جھکا ہوا ہوگا
جانے والا گلی کی نکڑ پر
مڑتے مڑتے رکا ہوا ہوگا
دل میں موجود وہ اگر نہیں ہے
دھڑکنوں میں چھپا ہوا ہوگا