کوئی رنج و الم نہیں ہوں گے
Umar Farhat (b. 1986)کوئی رنج و الم نہیں ہوں گے
ہم پہ ظلم و ستم نہیں ہوں گے
دیکھنا اور سننا کام ہیں دو
دیدہ و دل بہم نہیں ہوں گے
ہم بھی دیکھیں گے وہ جہان ترا
جہاں رنج و الم نہیں ہوں گے
بھول جائے گی ہم کو یہ دنیا
یعنی قصے رقم نہیں ہوں گے
زیب قرطاس ہوگا نہ کوئی لفظ
جو وہ حسن قلم نہیں ہوں گے
کیا ضروری ہے ان کے بعد عمرؔ
میرے دل پر ستم نہیں ہوں گے